یار سے پیار کی باتوں کو غزل کہتے ہیں – عبید اعظم اعظمی

غزل کہتے ہیں


عبید اعظم اعظمی

یار سے پیار کی باتوں کو غزل کہتے ہیں
زلف و رخسار کی باتوں کو غزل کہتے ہیں

پیار سے مہکی ہوئی ہوش ربا راتوں میں
دل سے دلدار کی باتوں کو غزل کہتے ہیں

کبھی اقرار کی باتوں کو بتاتے ہیں غزل
کبھی انکار کی باتوں کو غزل کہتے ہیں

دل جو شیدائی کسی زلفِ گرہ گیر کا ہو
اس گرفتار کی باتوں کو غزل کہتے ہیں

بڑی کمیاب ہوا کرتی ہے دولت غم کی
غم سے دوچار کی باتوں کو غزل کہتے ہیں

جس چمن زار میں ہوتی ہیں دلوں کی باتیں
اس چمن زار کی باتوں کو غزل کہتے ہیں

کی ہیں جن لوگوں نے تنہائی میں باتیں وہ لوگ
درودیوار کی باتوں کو غزل کہتے ہیں

کبھی واعظ کے خیالوں سے چھلکتی ہے غزل
کبھی میخوار کی باتوں کو غزل کہتے ہیں

ہوگیا ہو جسے دیکھے ہوئے اک عرصہ عبید
اس کے دیدار کی باتوں کو غزل کہتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *